اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، زیلنسکی نے کہا کہ وہ انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم انتخابات کی تیاری کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی یقینی بنانے کی غرض سے کم از کم 60 دن درکار ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے یوکرین کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے یوکرینی عوام سے زیلنسکی کی جگہ نیا صدر منتخب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ کے ایک مشیر نے بھی کہا تھا کہ امریکا کو زیلنسکی کو قابلِ اعتماد اتحادی سمجھنے کا مؤقف ترک کرکے زمینی حقائق کو سمجھنا چاہیے۔
زیلنسکی کے بیان نے یوکرین کی قیادت کے مستقبل اور انتخابات کے معاملے پر واشنگٹن اور کیف کے درمیان اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
آپ کا تبصرہ